ہفتہ 7 نومبر 2026 - 15:46
دینی تعلیمات کے ساتھ عملی تربیت بھی ضروری ہے: آیت اللہ رجبی

حوزہ/ حوزہ علمیہ قم کی اعلیٰ کونسل کے رکن آیت اللہ محمود رجبی نے کہا ہے کہ دینی معارف کی صحیح سمجھ، فکری پختگی اور علم کے ساتھ عمل انسان کی دینی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کی اعلیٰ کونسل کے رکن آیت اللہ محمود رجبی نے کہا ہے کہ دینی معارف کی صحیح سمجھ، فکری پختگی اور علم کے ساتھ عمل انسان کی دینی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ علمی و تربیتی پروگراموں کے ذریعے نئی نسل کے عقائد مضبوط بنانے، دینی شناخت کو فروغ دینے اور معاشرے میں پائے جانے والے فکری شبہات کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔

قم کے مدرسہ فیضیہ میں طلاب کے ایک افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ رجبی نے کہا کہ دینی تعلیمات کو صرف معلومات کے طور پر حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ انسان ان معارف کو اچھی طرح سمجھے اور اپنی عملی زندگی میں بھی ان پر عمل کرے۔

انہوں نے کہا کہ دینی مباحث میں خدا شناسی، انسان شناسی، معرفت، فلسفہ اور اخلاق جیسے موضوعات کو عقلی دلائل کے ساتھ سمجھنا چاہیے، تاکہ طلبہ اپنے عقائد کی مضبوط بنیاد حاصل کرسکیں اور مختلف سوالات و شبہات کا اطمینان بخش جواب دے سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ علمی و تربیتی پروگراموں سے طلبہ کے اندر دینی جذبہ، اہل بیت علیہم السلام سے محبت اور اسلامی تعلیمات سے وابستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اخلاص کو بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو علم حاصل کرنے اور دینی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کو بنانا چاہیے۔ علمی سرگرمیوں کا آغاز اہل بیت علیہم السلام سے توسل اور دعا کے ذریعے کرنا بھی باعث برکت ہے۔

آیت اللہ رجبی نے طلبہ کو مزید مطالعہ، علمی سوالات اور باہمی مباحثے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات اساتذہ کے سامنے پیش کرنے چاہئیں، تاکہ درست اور مضبوط جوابات حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں یہی طلبہ دینی معارف دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ادا کریں گے، اس لیے انہیں علمی اعتبار سے مضبوط ہونا چاہیے۔

انہوں نے علم اور عمل کے درمیان تعلق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ، علامہ طباطبائیؒ اور دیگر بزرگ علماء کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ ان شخصیات نے علم کو عمل سے جوڑ کر دکھایا کہ حقیقی علمی ترقی اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کے اثرات انسان کے کردار اور طرزِ زندگی میں بھی ظاہر ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والے نئے فکری سوالات اور شبہات سے واقف رہنا اور ان کے مستند جوابات حاصل کرنا بھی ضروری ہے، کیونکہ مضبوط علمی بنیاد اور صحیح دینی معرفت ہی انسان کو فکری و اعتقادی کمزوریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha